Lazim Hai
سبھی کی راہ دیا ، اب جلانا لازم ہے
یہ دور وہ ہے کہ ہنسنا ہنسانا لازم ہے
خدا کی یاد بھی لازم ہے
اس گھڑی لیکن خدا کے بندوں کی ہمت بڑھانا لازم ہے
اے میرے دوست یہ مایوس گفتگو کیا ہے
زباں کے شر سے سبھی کو بچانا لازم ہے
یہ کیا کہ یاس بنے شاخ شاخ لٹکے رہو
امید بن کے ترا لہلہانا لازم ہے
ہے احتیاط ہی واحد علاج بستی کا
بس اس کے ساتھ ترا مسکرانا لازم ہے
عجب سفر ہے کہ اب ساتھ ساتھ چلتے ہوئے
سبھی کو سائے سے اپنے بچانا لازم ہے
زمینی فاصلے رکھنا چلو ہے مجبوری
دلوں کے فاصلے ابرک گھٹانا لازم ہے
ہے حل جہاں کے مسائل کا جس کے پاس ابرک
وہی خدا ہے ، خدا کو منانا لازم ہے