عثمان ڈار کا ملیر کینٹ کراچی سے اغواء
عثمان ڈار کا ملیر کینٹ کراچی سے اغواء ہونا، سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن فائل کرنے کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کیطرف سے انکار یا لاعلمی حتی کہ سندھ کے وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے گرفتاری کو تسلیم بھی کردیا تھا۔ بہرحال 03 اکتوبر تک کو ڈار کی فیملی کیطرف سے 02 وکلاء کو سیالکوٹ سے ہائیکورٹ میں بھیجنا اور اسکے بعد سندھ ہائیکورٹ کا سندھ کے وزیرِ داخلہ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم ملنے کے بعد اچانک سے اگلے ہی دن 04 اکتوبر کو عثمان ڈار کا اچانک سے ٹی وی پروگرام میں آجانا ساری کہانی کو نہ صرف مشکوک بنا رہی تھی بلکہ عثمان ڈار کا فیملی کیساتھ تعلق نہ ہونے کو بھی ظاہر کررہی تھی۔۔ اوپر سے ڈار کی والدہ کیطرف سے بڑھکتی اور کھڑکتی ویڈیو نے اداروں کی رہی سہی ساکھ اور محنت پر پانی پھیر دیا ۔۔
ڈار جیسے اعترافی بیانات پولیس کے سامنے یا پھر عدالت کے سامنے بھی اگر ڈر، خوف، جبر یا بغیر رضامندی کے دیے جائے تو انکی کوئی قانونی حثیت نہیں ہوتی اور یہ تو ٹی وی پروگرام میں دیے گئے ہیں ۔
نامعلوم معلوم ہوچکے ہیں۔۔۔
اور بادشاہ ننگا ہو چکا ہے عوام کے سامنے ۔۔تم ہار مان لو۔۔۔ اور اداروں کی رہی سہی ساکھ کو بچالو وگرنہ تو باجوہ کیطرح چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔۔۔