اوزین العابدین مٹی اٹھاتے ہوئے
اوزین محنتی بچہ ہے۔ گھر والے مٹی اٹھا رہے تھے۔ سلور کا قولا لے کر آگیا۔ میں نے کہا کہ بس اب مٹی نہیں اٹھانی اب آرام کر لیں۔ اوزین نے رونا شروع کر دیا۔ اتنے میں دادی بھی آگئی۔ دیکھا تو میں نے کہا، کہتا ہے میں بھی مٹی اٹھاؤں گا۔ پھر میں نے دل رکھنے کے لیے تھوڑی سی مٹی ڈال دی اور اب وہ لے کر جاہا ہے پہلے بھی وہ چھوٹے چھوٹے کام کرتا رہتا ہے۔