حماس القسام کے برگید کماندر ابوعبیدہ

Janghla
68 Views
حماس کے عسکری ونگ کتائب القسام کے ترجمان ابوعبیدہ کون ہیں؟ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن طوفان الاقصٰی کے بعد کئی بار کتائب القسام ترجمان ابوعبیدہ دنیا کے سامنے آ کر حماس غزہ مجاہدین کی کامیابیوں اور اسرائیل کی تباہی بتا چکے ہیں. اس وقت پوری دنیا ابوعبیدہ کے اصل نام اور چہرے کو دیکھنا چاہتی ہے - عرب ممالک میں ابو عبیدہ ایک ہیرو سٹار کی طرح معروف ہوچکے ہیں. عرب دنیا ان کے بیانات اپنے موبائلوں گاڑیوں میں شوق سے سنتے نشر کرتے بیان کرتے دیکھے گئے ہیں - ان کے بیانات کروڑوں لوگ سن چکے ہیں - یہاں تک عرب عورتیں سوشل میڈیا پر ان سے نکاح کی خواہشات کا اظہار بھی کرچکی ہیں - غزہ جنگ کے دوران لوگوں کو ان کے بیانات کا شدت سے انتظار رہتا ہے. کیا آپ جانتے ہیں ابوعبیدہ کون ہیں؟ حماس کے کئی کمانڈروں کی طرح ابوعبیدہ بھی ایک گمنام کمانڈر ہیں جو اسرائیل کے نمبر 1 دشمنوں کی لسٹ میں شامل ہیں - حماس کے آرمی چیف محمد ضیف کی طرح اسرائیل ان کے بارے کئی من گھڑت کہانیاں بیان کرچکا ہے - ابو عبیدہ 25 جون 2006 کو پہلی بار حماس ترجمان کے طور پر میڈیا کے سامنے آئے تھے - گزشتہ 18 سالوں سے ابو عبیدہ حماس کے عسکری ونگ القسام کے ترجمان کے طور پر سامنے آتے ہیں - حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی آواز لب ولہجے یہاں تک جسمانی ساخت ان کے سٹائل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی - اسرائیل دنیا کی تمام ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود ابو عبیدہ کے بارے یہ تک نہیں جان سکا کہ ان کا اصلی نام کیا ہے اور ان کی اصل تصویر یا اصل چہرہ کیسا ہے؟ اسرائیل کئی بار جھوٹے دعویٰ کرتے رہا ہے کہ ابوعبیدہ کا اصلی نام حذیفہ ہے یہ غزہ جبالیا میں رہتے ہیں لیکن اسرائیل آج تک اس کو ثابت نہیں کرسکا کسی ثبوت کے ساتھ - اسرائیل نے کئی بار ان کے گھروں پر بمباری بھی کی ہے لیکن یہ محفوظ رہے - ابو عبیدہ کے بارے بتایا جاتا ہے انہوں نے غزہ یونیورسٹی سے ایم فل پی ایچ ڈی کررکھی ہے اصول الدین فیکلٹی سے - یہ حماس کے ٹاپ کمانڈروں میں شمار ہوتے ہیں - 2002 سے انہوں نے حماس کی میڈیا پر نمائندگی شروع کی اور 2006 میں پہلی بار کیمرے کے سامنے آئے - حماس کی غزہ تقاریب ریلیوں میں بھی یہ نظر آتے ہیں - غزہ کے 25 لاکھ مسلمانوں میں بہت محبت کی نگاہ سے ان کو دیکھا جاتا ہے - بچے ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں - عربی میں ان کے بیانات کو خوب سراہا جاتا ہے - دشمن کے خلاف ان کے خطابات کو ایٹم بموں سے تعبیر کیا جاتا ہے جو دشمن کی صفوں میں میں کھلبلی مچا دیتے ہیں اور دشمن بیانات سے ہی رعب خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے - ان کے خطابات نا صرف دشمن کے لیے دھمکی ثابت ہوتے ہیں بلکہ دشمن ان کے بیانات کی وجہ سے غزہ مجاہدین کے مقابلے میں لڑنے سے بھاگ جاتے ہیں جس کی مثال طوفان الاقصٰی آپریشن میں دیکھی گئی ہیں - احادیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان جنگ میں زبان سے جہاد کو جہاد بتایا ہے - یقیناً دشمن پر زبان سے تلوار جیسے وار کرنا دشمن کی گردن اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے چنانچہ یہ حدیث پڑھیں عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ اﷲَ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَکَأَنَّ مَا تَرْمُوْنَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّبْلِ. حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا: بیشک اﷲ تبارک و تعالیٰ نے شعر کے بارے میں نازل کیا جو نازل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بیشک مومن اپنی تلوار اور زبان دونوں کے ساتھ جہاد کرتا ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! گویا جو الفاظ تم ان (کفار و مشرکین)کی مذمت میں کہتے ہو وہ (ان کے لئے) بمنزلہ تیر برسانے کے ہیں۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند) اللہ تعالیٰ مسجد اقصٰی فلسطین اور مقبوضہ مسلمانوں کی زمینوں کو آزادی نصیب کرے

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact