سلطان احمد سنجر
سلطان احمد سنجر
سلطان احمد سنجر سلجوقی سلطنت کا عظمت و شان والا بادشاہ تھا۔ سیلجوک خاندان کا چھٹا سلطان معیزالدین احمد سنجر بن ملک شاہ بن الپ ارسلان سیلجوک سلطان ہیں۔ وہ سلجوق خاندان کے چھٹے سلطان تھے اور ان کا نام ابو الحارث، سنجر بن ملک شاہ اول، بن الپ ارسلان بن داؤد بن میکائیل بن سلجوق بن دقاق ہے۔ اس کی والدہ ایک لونڈی تھی اور اس کا نام تاج الدین خاتون الصفریہ تھا، جو سلطان ملک شاہ بن الپ ارسلان کی غلام تھی۔
سلطنت:
ملک شاہ سلجوقی کا تیسرا بیٹا تھا اس کی حکومت خراسان، غزنہ، خوارزم اور ماوراءالنہر تک پھیلی ہوئی تھی اس کا نام کظبہ مین ایران آرمینیا، آذر بائیجان، موصل، دیار ربیعہ، دیار بکر اور حرمین تک پڑھا جاتا تھا، 1092ء میں خراسان پر قابض ہوا اس کے بعد فارس کا بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا، سلطان سنجر نے غزنوی خاندان کے بادشاہ بہرام شاہ کو خراج گزار بنا لیا علاؤ الدین بادشاہ غور نے بہرام شاہ کو شکست دی اور غزنی لے لیا۔ اور یہی علاؤ الدین بھی سلطان سنجر کا مطیع ہوا-
نوٹ : ملک شاہ کی وفات 1092 میں ہوٸی -اس کے بعدمندرجہ ذیل اشخاص حکمرانی میں آۓ۔
1-سلطان ناصرالدین محموداول
ملک شاہ کی وفات کے بعد اس نے حکمرانی کا اعلان کیا-تاہم وہ سلطنت پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہے اور جگہ جگہ بغاوتیں پھوٹ پڑھیں-اور سلطنت مختلف حصوں میں تقسیم ہوگیا-صرف 2 سال بعد ہی 1094 میں وہ مار دیے گۓ۔ان کے عہد میں ملک شاہ کی بیوی ترکان خاتون جن کو محل میں خاصا اسر ورسوخ حاصل تھا نے اپنے کم عمر بیٹے کو سلطان بنانے کے کوششیں کی-اسکے علاوہ ملک شاہ کے بیٹے برکیارق نے بھی تخت سنبھالنے کی کوشش کی-
2-رکن الدین ابولمظفر برکیارق ابن ملک شاہ
برکیارق 1094 میں سلطنت کے حکمران بن گۓ۔ان کا زیادہ تر عرصہ دوسرے سلجوق شہزادوں سے لڑنے میں گزرا-اور 1105 میں انتقال تک بادشاہ رہے-مرنے سےپہلے اپنے بیٹے ملک شاہ دوم کو نیا سلطان مقرر کیا تھا-
3-ملک محمد تپار
ملک تپار اپنے بھتیجے ملک شاہ ثانی کو معزول کرکے سلطان بنے-اور بغداد کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا دوسری طرف احمد سنجر خراسان میں طاقت پکڑ چکے تھے اور عملاً وہاں کے حکمران تھے-آپ کی حکمرانی زیادہ تر اسماعیلیوں کے ساتھ لڑنے میں گزری-آپ نے الموت قلعہ کا بھی محاصرہ کیا تاہم اسے فتح نہ مل سکی-1118 میں تپار انتقال کرگۓ۔اور اپنے بیٹے محمود ثانی کو حکمران بنایا-
تاہم تپار کے بعد سلطان احمد سنجر سلطنت میں واحد طاقتور بادشاہ تھا جس کا حکم ہر طرف چلتا رہا-یعنی خراسان اور کچھ علاقوں کو ملاکر سنجار 1118 میں سلجوق حکمران بن گۓ۔
سلطان احمد سنجر کی بیوی اور اولاد:
اس نے سمرقند کی مالک محترمہ ترکان خاتون، بنت ارسلان خان سے شادی کی اور وہ اپنے سارے سفر اور جنگوں میں اپنے شوہر کے ساتھ گئی،(نوٹ: سلجوق بیداری ڈرامہ میں سنجر کی بیوی کا نام تورنہ رکھا گیا ہے کیونکہ ملک شاہ اول کی بیوی کا نام بھی ترکان خاتون تھی) اسے ترکوں کے اوغوز قباٸل نےدو بار قید کا نشانہ بنایا جب سلطان نے قطوان کی لڑائی ہار دی، تو اس نے اسے پانچ لاکھ دینار دے کر چھڑا لیا۔ دوسری بار، وہ سلطان سنجر کے ساتھ اس وقت دوبارہ وگرفتار ہوئی جب سلطان نے غز سے شکست کھائی تھی اور سلطان سنجر نے اپنے پورے خاندان میں اپنی اہلیہ سے وفاداری کرتے ہوئے غز کی قید سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی جو پورے تین سال ان کی قید میں رہی یہاں تک کہ اس کا اسی حالت میں 551ھ بمطابق 1157کو انتقال ہو گیا حالانکہ آپ کو وفاداروں نے کٸ مواقع دیے فرار ہونے کے تاہم سنجر مسلسل انکار کرتے رہے کہ اگر وہ جاۓ گا تو بیوی کو ساتھ لےکر جاۓ گا ورنہ ساری عمر قید میں گزارے گا-سلطان احمد سنجر کا کوئی بیٹا نہیں تھا تاریخ میں سلطان احمد سنجر کی ایک بیٹی کا ذکر ضرور موجود ہے جن سے بعد میں عباسی خلیفہ مسترشد باللہ نے 518ھ میں شادی کی اور سلطان احمد سنجر کی بیٹی کے لے دریائے دجلہ پر ایک شاندار گھر تعمیر کروایا
عظیم سلطان:
سلطان سنجر کو عالم اسلام میں بہت بلند مرتبہ حاصل ہوا اسے ’’سلطان اعظم‘‘ کا لقب دیا گیا اس کی شان و شوکت اور عظمت و سطوت ضرب المثل تھی۔امام غزالی رح اور سنجر کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب امام غزالی رح پہلی مرتبہ سلطان احمد سنجر کے دربار میں حاظر ہوۓ اور سنجر پر پہلی نظر پڑی تو امام غزالی رح پر مدہوشی چھاگٸ اور اللہ اکبر کا ورد کرنے لگیں-یہ سب دیکھ کر احمد سنجر حیران رہ گۓ اور تخت سے اٹھ کر امام غزالی رح کے پاس آگۓ ۔پھر احمدسنجر نے قرآن پاک کی چند آیتیں پڑھیں اور امام غزالی رح کو اٹھایا-
علامہ اقبال نے سلطان سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے۔
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!
فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہِ سنجر و فقرِ جنیدؒ و بسطامیؒ
وفات:
8 مئی 1157ء کو سلطان سنجر کا انتقال ہوا جس کے ساتھ ہی سلجوقی خاندان کا خاتمہ ہو گیا سلطان سنجر مرو میں مدفون ہے۔