Poetry

AqeelArslan
10 Views
Parizaad poetry by Aqeel             پری زاد مفلسی کا پیرہن اوڑھے زمانے کی سختیاں، سبھی وحشتیں سہہ کر کئی  محرومیوں میں بڑے جو ہوۓ رنگ و نسل کی تفریق میں دھتکارے گئے اذیتوں کے نشتر دل میں ہمارے اتارے گئے بہت نایاب ہیں اور برباد ہیں ہم پری زاد ہیں۔۔!! ہماری معصومیت کو آوارہ سمجھ اپنے دامن میں لگی تہمتیں کسی نے داغِ محبت سبھی دھو لئے اِس دشت کی سب سختیاں جھیل کر زمانے نے پھینکا ہمیں کھیل کر مضطرب چہرے پہ آنکھیں سجاۓ جو آزاد ہیں ہم پری زاد ہیں ...!! دل کی ویران بستی بساتے ہُوئے بوجھ کتنے خود پہ اٹھاتے ہوۓ ملے  سب سے ہم مسکراتے ہوئے اندر ہی اندر جو ناشاد ہیں ہم پری زاد ہیں...!! اک ربطِ مسلسل جو تم سے رہا بہت کچھ کہنا چاہا، کچھ نہ کہا تمہاری دہلیز پہ سر جھکائے ہوئے دنیا سے ماورا ہیں، آزاد ہیں ہم پری زاد ہیں۔۔!! حسن والوں سے اکثر جو گھائل ہوئے کسی شاعر کے شعروں کے قائل ہوۓ عشق ہے بس محبت ہے توحید ہے۔۔۔!! کسی ادھورے سے قصے کی فریاد ہیں ہم پری زاد ہیں۔۔!! ہمیشہ دیر کردی خود کو سمجھانے میں دل کی بینائی سے کس نے دیکھا ہمیں؟ ہمارے جذبوں کو سچا سمجھ کس نے چاہا ہمیں؟ اک زمانے کی بھولی ہوئی یاد ہیں​ ہم پری زاد ہیں۔۔۔!! ہم پری زاد ہیں​۔۔۔!!                                    عقیل ارسلان نقوی

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact