A Englishman research on Takhat-e-Bilqees

Shafi4596
2 Views
تختِ بلقیس کس طرح آیا احسن اقبال 0 تبصرے 758 مناظر Takht e Bilqees | Takht e Bilqees in Urdu | Suleman Ali Salam ملکہ سبا ”بلقیس”کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا ،یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔ قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسْلِمِیۡنَ ﴿38﴾قَالَ عِفْرِیۡتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِکَ ۚ وَ اِنِّیۡ عَلَیۡہِ لَقَوِیٌّ اَمِیۡنٌ ﴿39﴾ (پ 19،النمل: 38،39) ترجمہ کنزالایمان:سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ”آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔ قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ ؕ (پ19،النمل:40) ترجمہ کنزالایمان:۔اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔ چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کھینچ لیا اور وہ تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔ تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا:۔ ہٰذَا مِنۡ فَضْلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبْلُوَنِیۡۤ ءَاَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ؕ وَمَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿40﴾ (پ19،النمل:40) ترجمہ کنزالایمان:۔یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔ درسِ ہدایت:۔اس قرآنی واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو بڑی بڑی روحانی طاقت و قوت عطا فرماتا ہے۔ دیکھ لیجئے حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پلک جھپکنے بھر کی مدت میں تخت بلقیس کو ملک سبا سے دربار سلیمان میں حاضر کردیا۔ اور خود اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں ۔اسی طرح بہت سے اولیاء کرام نے سینکڑوں میل کی دوری سے آدمیوں اور جانوروں کو لمحہ بھر میں بلا لیا ہے۔ یہ سب اولیاء کی اُس روحانی طاقت کا کرشمہ ہے جو خداوند قدوس اپنے ولیوں کو عطا فرماتا ہے اس لئے کبھی ہرگز اولیاء کرام کو اپنے جیسا نہ خیال کرنا اور نہ اُن کے اعضاء کی طاقتوں کو عام انسانوں کی طاقتوں پر قیاس کرنا۔ کہاں عوام اور کہاں اولیائ۔ اولیاء کرام کو اپنے جیسا سمجھ لینا یہ گمراہی کا سرچشمہ ہے۔ حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے مثنوی شریف میں اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی وضاحت کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔ جملہ عالم زیں سبب گمراہ شد کم کسے ز ابدال حق آگاہ شد تمام دنیا اس وجہ سے گمراہ ہو گئی کہ خدا کے اولیاء سے بہت کم لوگ آگاہ ہوئے

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact