آسانی سے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ، یہی قرآن کا حق ہے۔
جب بھی تراویح کی بات ہو تو ایک مزاحیہ کہانی یاد آجاتی ہے کہ جب ایک عرب نے پاکستانی کو کہا تھا کہ ہم بھی مسلمان ہیں مگر تم تو کلمہ پڑھ کر باولے ہی ہو گئے ہو۔ مقصد یہ ہے کہ تراویح عرب بھی پڑھتے ہیں، ان کے بھی حفاظ وقاری ہیں مگر جو قرآن کے ساتھ مذاق ہم رمضان میں کرتے ہیں اسے سن کر فرشتے بھی استغفار کرتے ہونگے۔
ایک عربی حافظ قرآن پاک کی اتنی تڑپ کے ساتھ تراویح پڑھا رہا ہے
یہ عرب قاری تراویح میں قرآن پڑھ رہا ہے۔ نہ انہوں نے پاؤ ، ڈیڑھ پاؤ کا حساب رکھا ہوتا ہے، نہ انہوں نے 120 کی سپیڈ لگانی ہوتی ہے اور نہ ہی تراویح میں قرآن ختم کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ قرآن ختم کرنا نہ یہ فرض ہے ، نہ سنت ہے اور نہ ہی کوئی حکم ہے۔ حکم یہ ہے کہ جتنا پڑھ سکو، آسانی سے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ، یہی قرآن کا حق ہے۔