Shahr-e-Khwab Ka Viran
روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کر گیا
پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کر گیا
سب اہل شہر جس پہ اٹھاتے تھے انگلیاں
وہ شہر بھر کو وجہِ زیارت بھی کر گیا
محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی
آج اس کو بھولن
Sign in to join the conversation.
Sign in with Google
Comments