دین اسلام میں صبر اور اس حدیث کی روشنی میں جانیے صبر کے متعلق
جامع ترمذی
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو
حدیث نمبر: 988
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ٧ (١٢٥٢)، و ٣١ (١٢٨٣)، و ٤٢ (١٣٠٢)، والأحکام ١١ (٧١٥٤)، صحیح مسلم/الجنائز ٨ (٩٢٦)، سنن ابی داود/ الجنائز ٢٧ (٣١٢٤)، سنن النسائی/الجنائز ٢٢ (١٨٧٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٩)، مسند احمد (٣/١٣٠، ١٤٣، ٢١٧) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1596)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 988
Translation:
Thabit Bunani reported from Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Patience is at the first shock.” --------------------------------------------------------------------------------
#islamicshorts #youtubeshorts #islamiceducation
digitalaiislam
Jami at-Tirmidhi
کتاب: الجنائز (جنازوں کا بیان)
باب: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو
حدیث نمبر: 988
حدیث کا متن
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
«الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»
"صبر تو وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔"
امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
راوی کا تعارف
Anas ibn Malik رضی اللہ عنہ
آپ دس سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہے اور کثیر الاحادیث صحابی ہیں۔
حدیث کی تخریج
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے:
Sahih al-Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abi Dawud
Sunan an-Nasa'i
Sunan Ibn Majah
Musnad Ahmad
شیخ Muhammad Nasiruddin al-Albani رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مختصر تشریح
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل صبر وہ نہیں جو وقت گزرنے کے بعد آ جائے، بلکہ حقیقی صبر وہ ہے جو اچانک صدمہ پہنچنے کے فوراً بعد اختیار کیا جائے۔
جب کوئی تکلیف، نقصان یا وفات کی خبر ملتی ہے تو دل گھبرا جاتا ہے۔ اس وقت:
چیخ و پکار نہ کرنا
اللہ سے شکوہ نہ کرنا
ناشکری کے الفاظ نہ کہنا
زبان اور عمل کو قابو میں رکھنا
یہی اصل صبر ہے۔
اہم نکات (YouTube Points کے لیے مفید)
صبر کا سب سے بڑا امتحان پہلا لمحہ ہوتا ہے۔
بعد میں تو دل خود ہی سنبھل جاتا ہے۔
جو شخص پہلے صدمے پر خود کو روک لے، وہی حقیقی صابر ہے۔
صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔
ماتم، کپڑے پھاڑنا اور نوحہ کرنا منع ہے، لیکن آنسو بہانا جائز ہے۔