"کیا نبی ﷺ کو نظرِ بد لگی تھی؟ حدیث 972 کی اصل حقیقتhadees corner |digitalaiislam

By Hadiscorner 1 hour ago
115 Views
جامع ترمذی کتاب: جنازوں کا بیان باب: مریض کے لئے تعوذ حدیث نمبر: 972 حدیث نمبر: 972 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الْبَصْرِيُّ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ اشْتَكَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنِ حَاسِدٍ، ‏‏‏‏‏‏بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ ترجمہ: ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر جبرائیل نے پوچھا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہیں؟ فرمایا: ہاں، جبرائیل نے کہا: «باسم اللہ أرقيك من کل شيء يؤذيك من شر کل نفس وعين حاسد باسم اللہ أرقيك والله يشفيك» میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو ایذاء پہنچا رہی ہے، ہر نفس کے شر سے اور ہر حاسد کی آنکھ سے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں، اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام ١٦ (٢١٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٦٣)، مسند احمد (٣/٢٨، ٥٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3523) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 972 Translation: Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Sayyidina Jibril (RA) came to the Prophet ﷺ and asked, “ O Muhammad ﷺ , do you have a complaint?” He said, “Yes” He said: “In the name of Allah, I put a spell on you against everything that may harm you, against the evil of every person and every envious eye. In the name of Allah,I cast a spell on you and may Allah cure you. ???? Jami at-Tirmidhi کتاب: جنازوں کا بیان باب: مریض کے لئے تعوذ حدیث نمبر: 972 ???? درست اور خوبصورت انگریزی ترجمہ (Corrected English Translation) Narrated by Abu Sa‘eed Al-Khudri (RA): Jibreel (AS) came to the Prophet ﷺ and said, “O Muhammad, are you ill?” He replied, “Yes.” Jibreel said: “In the Name of Allah, I perform Ruqyah for you from everything that harms you, from the evil of every soul and from the evil eye of every envier. In the Name of Allah, I perform Ruqyah for you, and may Allah grant you cure.” ???? آسان تشریح (Simple Explanation) یہ حدیث ہمیں چند اہم باتیں سکھاتی ہے: نبی ﷺ کو بھی بیماری آتی تھی – تاکہ امت کو معلوم ہو کہ بیماری اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، کمزوری نہیں۔ جبریل علیہ السلام نے دم کیا – اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی دم (رُقیہ) جائز اور مسنون ہے۔ ہر تکلیف کا علاج اللہ کے نام سے ہے – شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نظرِ بد حقیقت ہے – حسد اور بری نظر انسان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ دعا عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے – ہم بھی بیماری، نظرِ بد اور تکلیف میں یہ پڑھ سکتے ہیں۔ ???? پڑھنے کا طریقہ (For Ruqyah) بیماری یا نظرِ بد کے وقت یہ دعا پڑھ کر اپنے اوپر یا مریض پر دم کیا جا سکتا ہے: بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنِ حَاسِدٍ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ ???? YouTube SEO Title (Powerful & Emotional Hook) Powerful Ruqyah Dua for Healing | Hadith 972 Jami at-Tirmidhi | Protection from Evil Eye & Illness یا اردو میں: نظرِ بد اور بیماری سے شفا کی مسنون دعا | جامع ترمذی حدیث 972 ???? SEO Keywords (English + Urdu) Ruqyah dua for healing Evil eye protection in Islam Hadith about cure Islamic dua for sickness Jami at Tirmidhi Hadith 972 نظر بد کا علاج بیماری کی دعا مسنون دم شفا کی دعا اسلامی علاج ???? 15 Hashtags #Ruqyah #IslamicDua #EvilEyeProtection #Hadith972 #JamiTirmidhi #ShifaDua #IslamicReminder #SunnahHealing #DuaForHealth #QuranicHealing #نظر_بد #اسلامی_دعا #شفا #حدیث #مسنون_دم اگر آپ چاہیں تو میں: ????️ اس حدیث کا جذباتی وائس اوور اسکرپٹ بنا دوں ????️ یوٹیوب یا ٹک ٹاک کے لیے 16:9 تھمبنیل ٹیکسٹ تیار کر دوں ???? ملٹی لینگویج ترجمہ (Chinese, Hindi, Bengali وغیرہ) بنا دوں آپ کے چینل کے لیے ان شاء اللہ یہ حدیث بہت زیادہ ویوز لا سکتی ہے کیونکہ “نظر بد” اور “شفا کی دعا” لوگ بہت سرچ کرتے ہیں۔ آپ کا سوال بہت اہم ہے ???? یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ نبی ﷺ کو کیا ہوا تھا؟ یہ حدیث Jami at-Tirmidhi حدیث نمبر 972 میں آتی ہے، اور اسی مضمون کی روایت Sahih Muslim میں بھی موجود ہے۔ ???? اصل وجہ کیا تھی؟ حدیث میں صرف اتنا ذکر ہے کہ: جبریل علیہ السلام آئے اور پوچھا: "یا محمد ﷺ! کیا آپ بیمار ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں۔" حدیث میں بیماری کی نوعیت (کون سی بیماری تھی) واضح طور پر بیان نہیں کی گئی۔ ???? علماء کی وضاحت علماء نے اس بارے میں چند احتمالات بیان کیے ہیں: 1️⃣ عام جسمانی بیماری یہ ممکن ہے کہ نبی ﷺ کو عام جسمانی تکلیف، بخار یا درد ہو — کیونکہ آپ ﷺ بشر تھے اور انسانوں کی طرح بیماری آتی تھی۔ ???? اس کا مقصد یہ تھا کہ امت کو سکھایا جائے: بیماری آنا عیب نہیں صبر کرنا اجر کا سبب ہے شفا صرف اللہ دیتا ہے 2️⃣ نظرِ بد یا حسد کا اثر دعا کے الفاظ میں آیا: "من شر كل نفس وعين حاسد" یعنی "ہر نفس کے شر اور ہر حاسد کی آنکھ سے" اس سے بعض علماء نے کہا کہ ممکن ہے نظرِ بد یا کسی کے حسد کا اثر ہوا ہو۔ 3️⃣ امت کو رُقیہ سکھانے کے لیے سب سے مضبوط بات یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے امت کو یہ سکھایا کہ: بیماری میں کیا پڑھنا ہے دم کیسے کرنا ہے نظرِ بد سے کیسے بچنا ہے شفا کے لیے اللہ پر کامل یقین رکھنا ہے یعنی یہ ایک تعلیمِ امت کا واقعہ بھی تھا۔ ???? اہم عقیدہ کی بات یہ یاد رکھنا ضروری ہے: نبی ﷺ کو بیماری آنا آپ کے مقام کے خلاف نہیں۔ بلکہ: انبیاء سب سے زیادہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں بیماری درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنتی ہے کہ دوسری احادیث میں آتا ہے کہ انبیاء کو سب سے زیادہ آزمائش دی جاتی ہے۔ ???? خلاصہ اس واقعے کی اصل وجہ: ✔️ یا تو عام بیماری تھی ✔️ یا نظرِ بد کا اثر ہو سکتا ہے ✔️ یا امت کو مسنون رُقیہ سکھانے کے لیے تھا لیکن حدیث میں بیماری کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس موضوع پر آپ کے چینل کے لیے ایک زبردست عنوان بنا دوں جیسے: "کیا نبی ﷺ کو نظرِ بد لگی تھی؟ حدیث 972 کی اصل حقیقت!" یہ ٹائٹل بہت strong curiosity create کرے گا ????
Latest Videos Febspot Explore Partner Program Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact