“محفل میں سب تھے مگر نظر صرف تم پہ ٹھہری، یہ دل بھی عجیب ہے، ہر دھڑکن تم سے ہی جڑی۔”

97 Views
تیری آنکھوں میں جیسے شام اتر آئی ہو، خاموش چہرے میں بھی اک بات نظر آئی ہو۔

Comments