“محفل میں سب تھے مگر نظر صرف تم پہ ٹھہری، یہ دل بھی عجیب ہے، ہر دھڑکن تم سے ہی جڑی۔”
تیری آنکھوں میں جیسے شام اتر آئی ہو،
خاموش چہرے میں بھی اک بات نظر آئی ہو۔
Sign in to join the conversation.
Sign in with Google
Comments