The Mysterious Mansion
پراسرار حویلی
The Mysterious Mansion
یہ واقعہ 2003ء کا ہے جو لاہور کے
تاریخی اور پرانے علاقے انارکلی کے قریب واقع ایک صدیوں پرانی کچی حویلی میں پیش آیا۔
اس حویلی کو ایک مقامی تاجر احسن صاحب نے اپنے سامان کا گودام بنانے کے لیے کرائے پر لیا تھا۔ حویلی کے بارے میں محلے کے پرانے لوگوں کا کہنا تھا کہ اس کا نیچے والا تہہ خانہ پچھلے 40 سالوں سے بند ہے اور وہاں رات کو عجیب و غریب آوازیں آتی ہیں، لیکن احسن صاحب نے ان باتوں کو محض افواہ سمجھا۔
ایک رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے، احسن صاحب اپنے دو مزدوروں کے ساتھ گودام میں نیا مال شفٹ کروا رہے تھے۔ کام کے دوران اچانک تہہ خانے کے پرانے اور زنگ آلود لوہے کے دروازے پر شدید کھٹکھٹاہٹ شروع ہو گئی۔
احسن صاحب نے سوچا شاید کوئی بلّی یا کتا اندر پھنس گیا ہے۔ انہوں نے مزدور سے کہا کہ جا کر دیکھو، لیکن مزدور خوف کے مارے پیچھے ہٹ گئے۔ احسن صاحب نے خود ہتھوڑی سے زنگ آلود تالا توڑا اور ٹارچ لے کر تہہ خانے کی سیڑھیاں اترنے لگے۔
سیڑھیاں اترتے ہی ہوا کا درجہ حرارت شدید ٹھنڈا ہو گیا، حالانکہ باہر شدید گرمی تھی۔ پورا تہہ خانہ سڑاند اور پرانی نمی کی بو سے بھرا ہوا تھا۔
جب احسن صاحب نے ٹارچ کی روشنی تہہ خانے کے اخری کونے میں ڈالی، تو ان کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
کونے میں ایک بے اندازہ بوڑھا اور حد سے زیادہ لمبا وجود دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، جس کے سفید داڑھی کے بال فرش کو چھو رہے تھے۔ اس کی انگلیاں خشک شاخوں کی طرح لمبی تھیں اور ناخن مڑے ہوئے تھے۔ سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اس کا جسم بالکل شفاف سا محسوس ہو رہا تھا، جیسے دھوئیں اور سائے کا مرکب ہو۔
جب ٹارچ کی روشنی اس کے چہرے پر پڑی، تو اس نے اپنی سرمئی اور چمکدار آنکھیں اٹھا کر احسن صاحب کی طرف دیکھا۔ اس کے منہ سے ایک باریک اور گھمبیر سسکی نکلی جو سیدھی دل کو دہلا دینے والی تھی۔
احسن صاحب کو لگا جیسے ان کا دل بیٹھ رہا ہے اور پاؤں زمین میں جم گئے ہیں۔ انہوں نے فوراً اپنی آنکھیں بند کیں اور اونچی آواز میں اللہ پاک کا زکر شروع کر دی۔
زکر شروع کرتے ہی تہہ خانے میں موجود تمام پرانے لکڑی کے باکس خود بخود ہلنے لگے اور ایک تیز ہوا کا چکر بند کمرے کے اندر چلنے لگا۔ احسن صاحب نے زکر کی رفتار اور تیز کر دی اور پیچھے کی طرف سیڑھیاں چڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی وہ آخری سیڑھی پر پہنچے، ایک زوردار چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ وہ وجود غائب ہو گیا اور تہہ خانے کا درجہ حرارت دوبارہ نارمل ہو گیا۔
احسن صاحب اور ان کے مزدور اسی وقت گودام لاک کر کے وہاں سے نکل گئے۔ اگلے ہی دن انہوں نے وہ حویلی خالی کر دی۔
بعد میں لاہور کے پرانے معمر لوگوں نے تصدیق کی کہ وہ حویلی سکھ دور کی بنی ہوئی تھی اور اس کے تہہ خانے میں ایک قدیم خانقاہی جِنّ کا مسکن تھا جو جگہ میں مداخلت کرنے والوں کو وہاں سے بھگا دیتا تھا، لیکن نقصان صرف ان لوگوں کو پہنچاتا تھا جو ڈر کر زکر الٰہی سے غافل ہو جاتے تھے۔
#MysteriousMansion
#Anarkali
#LahoreMystery
#HauntedHouse
#HorrorStory
#JinnStory
#Paranormal
#ScaryStory
#UrduHorror
#MysteriousMansionAnarkaliLahoreMysteryHauntedHouseHorrorStoryJinnStoryParanormalScaryStoryUrduHorrorMysteryStory