Before going to picnic
*پردہ گرنے والا ہے تیاری کرلیجیے*
بچپن سے نوجوانی
نوجوانی سے جوانی
جوانی سے ادھیڑ عمری
اور ادھیڑ عمری سے بڑھاپا
اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم کیا اور اب تک کی زندگی ان پہاڑوں کے آس پاس گزری
ہمیشہ سے ان پہاڑوں کے مختلف رنگ میرے لیے انتہائی دلچسپی کا سامان ہوتے تھے، میں راستے میں گزرتے ہر پہاڑ کے رنگ پر *اپنے ابو (غفرالله له)* کو جوش سے کہتی ابو جلدی دیکھیں اس پہاڑ کا تو بالکل ہی الگ رنگ ہے
دور تک نظر آتے پہاڑوں میں رنگوں کے ہزاروں شیڈ جھلکتے تھے جو مجھ پر ایک سحر سا طاری کردیتے تھے
بالکل چٹیل بنجر پہاڑ
رنگ برنگے پتھروں والے
لیکن!!!!!!
گزشتہ دنوں کی بارشوں کے بعد آج راستے کا جو رنگ تھا وہ خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔
ہر پہاڑ سبزے کی چادر اوڑھے جیسے دیکھنے والوں کو دعوت دے رہا تھا کہ تیاری کرلو، قیامت آنے والی ہے نبی کریم ﷺ کی حدیث پوری ہوگئ
*اللہ کے رسول ﷺ کی ایک حدیث مبارک ہے کہ قیامت سے پہلے سر زمین عرب دوبارہ سرسبز ہو جائیگی۔(صحیح مسلم)*
کون سوچ سکتا تھا کہ سرزمین عرب کے صحراء اور خشک پہاڑ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے *”بوادِِ غیر ذی زرعً“* بے آب و گیا وادی قرار دیا۔ وہ سبزے سے لہرا اُٹھے گی؟
گویا بزبان حال یہ پہاڑ چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ
*کھیل ختم ہونے والا ہے، گھنٹی بجنے والی ہے سامان سمیٹ لیجیے*
*منظر تو بدل گئے، اب دل بدل لیجیے، اعمال بدل لیجیے*
یقین کیجیے، جدہ سے مکہ کا سفر خوشی کے بجائے خوف میں گزرا اتنا سبزہ اتنی ہریالی کہ انکھوں کو یقین ہی نہ آئے۔
لیکن ان مناظر سے عبرت صرف وہی لینگے جنکی اللہ تعالیٰ نے دل کی آنکھیں کھولی ہیں
انٹرنیٹ پر مستقل سعودی عرب کے لوگوں کے خوشی سے بھرے کمینٹس ان ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ نظر آرہے ہیں کہ
کیا یہ واقعی مکہ ہے یا سوئیٹزرلینڈ؟؟
کیا ہم پہاڑی علاقوں میں تفریح کرنے آئے ہیں؟؟
ہر جگہ ایسے ہی پیغامات نظروں سے گزر رہے ہیں جبکہ *حقیقت تو خوفزدہ کردینے والی ہے*
*سامان سمیٹ لیجیے، تیاری کرلیں کسی بھی وقت گھنٹی بجے گی اور اسٹیج کا پردہ گرجائیگا*
*پیچھے رہ جائینگے ہم اور ہمارے اعمال*
*اور ۔۔۔۔۔۔۔۔*
*اللہ تعالیٰ کے سامنے یوم الدین میں حاضری*
یہ علامات ہمیں عبرت کے لیے بتائی گئیں تھیں پڑھ کر گزر جانے کے لیے نہیں
اللہ تعالیٰ ہماری دل کی انکھیں کھول دیں