گھوڑا بہت مفید جانور ہے۔
گھوڑا سمدار پستانیہ جانور ہے۔ یہ جانور اسپاں خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ گھوڑوں کی ارتقاء کا عمل ساڑھے چار کروڑ سے ساڑھے پانچ کروڑ سال کے دوران ہوا ہے۔ لگ بھگ 4000 ق م میں انسانوں نے پہلی بار گھوڑے کو پالتو بنایا تھا۔ 3000 ق م سے گھوڑوں کوعام طور پر پالا جا رہا ہے۔ اس وقت تقریباً تمام تر گھوڑے ہی پالتو ہیں لیکن جنگلی گھوڑوں کی ایک نسل اور پالتو گھوڑوں کو دوبارہ آزاد کرنے سے پیدا ہونے والی نسلیں پالتو نہیں۔ انگریزی زبان میں گھوڑوں کے خاندان کے لیے الگ سے اصطلاحات بنائی گئی ہیں جو ان کے دورانِ حیات، جسامت، رنگت، نسل، کام اور رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔
گھوڑوں کی جسمانی ساخت اسے حملہ آوروں سے بچ کر بھاگنے کے قابل بناتی ہے۔ گھوڑوں میں توازن کی حس بہت ترقی یافتہ ہے۔ گھوڑے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دونوں ہی انداز سے سو سکتے ہیں۔ گھوڑے کی مادہ گھوڑی کہلاتی ہے اور اس کا زمانہ حمل 11 ماہ طویل ہوتا ہے۔ گھوڑے کا بچہ پیدا ہونے کے کچھ ہی دیر بعد کھڑا ہونے اور بھاگنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر پالتو گھوڑوں کو 2 سے 4 سال کی عمر میں زین اور لگام کی عادت ڈال دی جاتی ہے۔ 5 سال کا گھوڑا پوری طرح جوان ہوتا ہے اور اوسطاً گھوڑوں کی عمر 25 سے 30 سال تک ہوتی ہے