Kehny ko muhabbat hy lakin ab aise muhabbat kea karni – کہنے کو محبت ہے لیکن
کہنے کو محبت ہے لیکن
اب ایسی محبت کیا کرنی ہے
جو نیند چرا لے آنکھوں سے
جو خواب دیکھا کر پھولوں کے تعبیر میں کانٹے دے جائے
جو غم کی کالی راتوں سے ہر اس کے جگنو لے جائے
جو خواب سجاتی آنکھوں کو آنسو ہی آنسو دے جائے
جو مشکل کر دے جینے کو جو مرنے کو آسان کرے
وہ دل جو پیار کر مندر ہو وہ یادوں کو مہمان کرے
اب ایسی محبت کیا کرنی ہے
اب ایسی محبت کیا کرنی ہے
جو عمر کی نقدی لے جائے اور پھر بھی جھولی خالی ہو
وہ صورت دل کا روگ بنے جو صورت دیکھی بھالی ہو
جوقیس بنا دے انسان کو جو رانجھا اور فرہاد کرے
اب ایسی محبت کیا کرنی ہے