Kahan ka Ishq, kahan ki Muhabbatain Murshid
کہاں کا عشق کہاں کی محبتیں مرشد
تمام عمر ہی جھیلی ہیں وحشتیں مرشد۔۔۔
ہم ایسے لوگ کہاں راس آ سکے سب کو
کہ جن پہ بار ہیں اپنی طبیعتیں مرشد۔۔۔
سروں کی خاک ہمیں کھینچ لائی ہے ورنہ
کہاں کا ہجر کہاں کی یہ ہجرتیں مرشد۔۔۔
وہ کون لوگ تھے گمنامیوں سے نالاں تھے
ہمیں تو مار گئی ہیں یہ شہرتیں مرشد۔۔۔
کسی کو ٹوٹ کے چاہیں کسی کو یاد کریں
ہمارے پاس کہاں اتنی فرصتیں مرشد۔۔۔
کوئی تو ہوتا جو چنتا وجود کے ریزے
تمام عمر رہی ہیں یہ حسرتیں مرشد۔۔۔
کوئی وظیفہ کوئی ورد کوئی اسم پڑھیں
کہ ختم ہونے لگی ہیں اذیتیں مرشد۔۔۔