رب جانے اور میرا پیر فقیر جانے ۔ یہ عقیدہ کہاں تک کام آئے گا؟
(وَکُلَّ شَیْءٍ أَحْصَیْنٰہُ فِیٓ إِمَامٍ مُّبِینٍ)کا بیان
بے عملی اور بے راہ روی کو اختیار کرکے یہ عقیدہ رکھنا کہ
قیامت کے دن "رب جانے یا میرا پیر فقیر جانے" کیسا ہے؟
کرنی والے بابے، گمراہ پیر،قبروں کے مجاور اور آستانوں کے گدی نشین
لوگوں کو اپنی مریدی پر کیسے قائل کرتے ہیں؟
ایسے پیشوا اپنے مریدوں کے ساتھ قیامت کے دن کیسا سلوک کریں گے؟