Fantastic poetry by Late Parveen Shakir

Muddasir
2 Views
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا آئنے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا شاعرہ مرحومہ پروین شاکر

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact