Beautiful Tilawt e Quran e pak

banatefatima
4 Views
*زکوۃ کی رقم سے مستحق زکوۃ کے مکان میں دوسری منزل تعمیر کرنا* سوال ہمارا ایک معذور رشتہ دار جو کمائی سے عاجز ہے اس کے مکان کی دوسری منزل اگر زکوۃ کے پیسوں سے بنوا دی جائے تاکہ وہ اس کا کرایہ حاصل کرکے گزر بسر کر سکےشرعا ایسے شخص کیلئے زکوۃ کی رقم سے مکان تعمیر کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟جبکہ یہ شخص مستحق زکوۃ بھی ہے ۔ (2)مکان تعمیر کرنے میں تو وقت لگے گا شرعا کونسا طریقہ اپنایا جائے کہ زکو ۃ دینے والوں کی زکوۃ فورا ادا ہو جائے ؟ (3)ہم اگر اس معذور شخص کو مکان پر لگنے والی لاگت کے بقدر زکوۃ کی رقم دیکر مالک بنا دیں،بعد میں ان سے لے کر ٹھیکیدار کو ماہانہ کے حساب سے دے دیں ،ایسا کرنے سےزکوۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں ؟ جواب واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی جس طرح نقد رقم سے جائز ہے اسی طرح کسی اور جنس مثلا اشیاء استعمال ،غذائی اجناس ،کپڑے لباس وغیرہ سے یا مکان تعمیر کرکے مستحق زکو ۃ کو مالک بنانے سے بھی زکوۃ ادا ہو جاتی ہے ۔صورت مسؤلہ میں اگر سائل کا رشتہ دار مستحق زکوۃ ہو تو اس کیلئے زکوۃ کی رقم سے گھر پر دوسری منزل تعمیر کر کے اس کو مالک بنادیناجائز ہے پھر مالک بننے کے بعد اس کی مرضی ہے چاہے وہ کرایہ پر دے یا خود رہائش کیلئے استعمال کرے یا کوئی اور تصرف کرے ۔ (2)بلاتاخیر زکوۃ ادا ہونے کی غرض سے نقد رقم یک مشت دی جا سکتی ہے تاہم اس کو مکمل مالکانہ تصرفات کا اختیار دیناضروری ہوگا پھر اگر وہ اپنی رضامندی سے دوسری منزل تعمیر کروائے تو بہتر ورنہ اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ (3) اگر وہ شخص رقم لینے کے بعدتعمیر کیلئے اپنی رضامندی سے اسی زکوۃ دینے والے کو دے دے کہ اس سے میرے لئے عمارت بنا دو تو اس میں بھی شرعا کوئی قباحت نہیں ۔ أما الذي يرجع إلى المؤدى فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه ۔(بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج2/ص461) ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔(الدر المختار،كتاب الزكوة ،باب المصرف،3/ص291) فتویٰ نمبر : 8713/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

Comments

1 comment
banatefatima 3 years ago
*جلد شادی کا وظیفہ*



سوال
لڑکی کا رشتہ جلد سے جلد ہو اس کے لیے کوئی اچھا سا وظیفہ ہو؟

جواب
اصل بات تو یہی ہے کہ ہر حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے، اور ہر چیز کا وقت مقرر ہے، لہٰذا اس طرح کے مسئلے میں کسی بھی قسم کے وسوسے اور شک میں مبتلا نہ ہوا جائے اور صدقِ دل سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے نیک رشتہ مانگا جائے۔ نیز :

1- ہر نماز کے بعد سات مرتبہ اور چلتے پھرتےدرج ذیل دعا کا اہتمام کرلیا جائے:

﴿رَبِّ إنِّيْ لِمَا أنْزًلْتَ إلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٍ﴾

2- صبح وشام سورہ واقعہ اور سورہ طارق پابندی سے پڑھی جائے۔

3- عشاء کی نماز کے بعد سونے سے پہلے باوضو قبلہ رخ بیٹھ کر اول آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور درمیان میں ایک سو ایک (101) مرتبہ درج ذیل آیت پڑھ کردعا کیجیے ان شاء اللہ بہت جلد مقصد براری ہوگی:

{وَمَنْ يَّـتَّـقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّه مَخْرَجاً وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَايَحْتَسِبْ وَمَنْ یَّتَـوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُه} [الطلاق] (ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مصائب سے نکلنے کی راہ بنا دیتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتے ہیں جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرلیتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتاہے) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144010200280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس جیسے مزید انتہائی اھم دینی مسائل کی واقفیت کیلئے اس لنک کو جوائن فرمائیں