مدینہ منورہ مسجد النبوی الشریف شارٹ ویڈیو 10

OmeKALSOOM
2 Views
ہم نے خدا کی رحمت کمانی چھوڑ دی ہے۔ جب بھی کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے یا قدرتی آفت آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ خدا کا عذاب ہے، چلیں خود سے پوچھتے ہیں کہ کیا اللہ کو عذاب لانے کی جلدی ہوتی ہے؟ کیا نظام قدرت کسی چانس کے انتظار میں ہوتی ہے کہ یہاں موقعہ ملے اور وہاں تباہی مچائے؟ جواب: نہیں …قدرت انسان کو رعایت پر رعایت دے رہی ہوتی کہ تم فلاں فلاں گڑبڑ کر رہے ہو، بند کر دو ورنہ نقصان ہو گا۔ عذاب اس وقت آتے ہیں جب سارے چانس دیے جا چکے ہوتے ہیں، پھر وارننگ دی جاتی ہے، اور پھر فائنل نوٹس۔ عذاب آتے نہیں ہیں بلکہ ہم سب مل کر اسے کما لیتے ہیں کہ پھر یہ ہماری جھولیوں میں آگرتا ہے۔ ہم نے خدا کی رحمت کو کمانا چھوڑ دیا ہے۔ رحمت کی دو شکلیں ہوتی ہیں ایک رحمت جو بلا تخصیص سب کے لیے ہوتی ہے۔ وہ انسان جس کے عقیدے سے آپ کو سخت نفرت ہے، یہ رحمت اس کے لیے بھی ہوتی ہے۔ رحم کی ایک شکل عام یعنی سب کے لیے اور ایک خاص ہوتی ہے۔ رحم کی خاص صورت کو کمانا پڑتا ہے، اور یہ جوش مارتی ہوئی بندے کی طرف لپکتی ہے۔ ہم نے خدا کی رحمت کو جوش دینے والے عمل کرنے چھوڑ دیے ہیں۔ میں نے ایک بار مہمان نوازی پر پوسٹ لگائی، اکثریت کا کہنا تھا, جو بھی ہے مہمان تو درد سر ہوتے ہیں پھر باتیں بنا کر چلے جاتے ہیں۔ میں نے درگرز پر تحریر شیئر کی، کہا آخر کب تک برداشت کریں اچھا ہے ان کی طبیعت صاف ہو جائے۔ مدد پر تحریر شیئر کی کہا, مدد کرو تاکہ اور سر چڑھ جائیں۔ بات صبر کی ہو تو آدھے لوگ اس چیز کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ صبر یا جبر؟ پھر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ذرا سوچیں تو کہ وہ کون سا عمل ہے جو ہم کر رہے ہیں اور ایسے کر رہے ہیں کہ اللہ کی رحمت جوش مار رہی ہے۔ ترکی میں کتنا خوفناک زلزلہ آیا ہے لیکن ترکی سے ہی وہ ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں جہاں امداد کے سامان کے ساتھ کرپشن کی جار ہی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ شہروں میں لوٹ مار مچی ہے، پورے کے پورے اسٹور لوٹ لیے گئے ہیں۔ یہ ہم اللہ کی رحمت کو جوش دلا رہے ہیں؟دور کیوں جایے، یہ ابھی پاکستان میں سیلاب آیا تھا، ٹینٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں۔ یہ عمل رحمت کو جوش دلا رے ہیں؟ اب آپ کہیں گے کہ دیکھیں میں تو ان لوگوں میں شامل نہیں ہوں۔ نہ میں ٹینٹ والا ہوں نہ میں نے اسٹور لوٹا، تو پھر آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ ان میں سے ہیں کہ جس کا کوئی رشتے دار مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ضرورت سے ہاتھ روک کر اس رشتے دار کی مدد کرتا ہے؟ لیکن رکیں! آپ کا ماننا ہے کہ یہ مصیبت اس رشتے دار پر اس کی کرتوتوں کی وجہ سے آئی ہے، پھر ان لوگوں کی مدد کرو تب بھی ان کے مزاج درست نہیں ہوتے۔(یعنی وہ آپ کو جھک کر سلام نہیں کرتے) یا آپ وہ ہیں جو لڑکی کو کم جہیز لانے پر طعنے دے رہے ہیں اور آپ وہ بھی تو ہیں جو خاندانوں کے عیب چوراہوں میں پھوڑ رہے ہیں۔ بتائیں پھر آپ کون ہیں؟ اللہ کہتا ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کا انعام کبھی ضائع نہیں کرتا، لیکن ہم نے تو احسان کرنے بھی چھوڑ دیے کیونکہ بھئی یہ دنیا احسانوں کے بدلے کہاں دیتی ہے۔ آپ کو لوگوں سے احسان کا انعام چاہیے؟ اسی لیے کسی پر احسان نہیں کر رہے؟ میں نے لاتعداد ویڈیوز دیکھیں، پھل فروش کرپشن کر رہا ہے، چوری سے کم تول رہا ہے، خراب پھل ڈال رہا ہے، دکان دار بے ایمانی کر رہا ہے، رکشے والا سڑک سے ٹھکن اٹھا رہا ہے، عام آدمی چوباروں پر ہاتھ ڈالتا، گھر میں کود کر چوری کر رہا ہے، روڈ پر ایکسیڈنٹ ہوا، عورت سڑک پر جا گری اس کے گلے سے سونے کی چین کھینچ رہا ہے، سونے کی بالیاں اتار رہا ہے۔ یہ ایک بار نہیں ……ہر روز……ہزاروں بار ہو رہا ہے۔ یہ صرف امیر غریب نہیں کر رہا، یہ ہر انسان کر رہا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے عذاب بھیجا…… ہم نے رحمت کمانا چھوڑ دی عذاب نے خودبخود جگہ بنا لی۔ ???????? Banat e Fatima ????????

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact