Beautiful naat Shareef By Qari Mohammed Usman sahb
جان بوجھ کر گناہ کرتے رہنا اور پھر توبہ کرنا کیا ایسی توبہ قبول ہوگی؟؟
پہلی بات یاد رکھیں کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے جب تک موت نہیں آتی۔ توبہ اگر گناہ کے ساتھ چلتی رہے گی تو اخلاص ایک دن گناہوں کو مٹا کر توبہ کو توبۃ النصوح میں تبدیل کر دے گا۔ جس وقت انسان گناہ کر رہا ہوتا ہے چاہے وہ کوئی بھی گناہ کیوں نہ ہو اسے یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے لیکن وہ پھر بھی گناہ کر ڈالتا ہے تو یاد رکھیں یہ ایمان کی علامت ہے۔ ایمان کی علامت اس طرح سے کہ اگر آپ اللہ کو نہ مانتے ہوتے تو آپ کے دل میں یہ خیال ہی پیدا نہ ہوتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اگر گناہ چھوٹ نہیں رہا تو کم از کم توبہ کو مت چھوڑئیے کیوں کہ توبہ بہت بڑی چیز ہے۔ غلطی شیطان کرواتا ہے توبہ اللہ رب العزت کرواتا ہے۔ بلکہ آپ جب توبہ کریں گے تو اللہ رحمت نازل کرے گا اور اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں خود کہا
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا●
جس نے بھی توبہ کی، ایمان لایا اور اچھے اعمال کیے تو اللہ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا۔ اللہ تو ہے ہی بخشنے والا اور مہربان۔
(سورۃ الفرقان، 70)
اللہ نے دین میں بڑی نرمی رکھی ہے اور شریعت نے بھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بہت ہی نرمی کا مزاج اپنایا ہے۔ ایک بندہ جو پہلے ہی گناہ اور معصیت کے اندر ڈوبا ہوا ہے اسے آپ کبھی بھی اللہ کا عذاب دکھا کر راہ راست پر نہیں لا سکتے وہ یہ سوچے گا جب جلنا ہی لکھا ہے مقدر میں تو تھوڑے اور مزے کر لو۔ یہاں تک کہ اللہ نے جب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے خبیث، جابر اور ظالم انسان کے پاس بھیجا تو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نصیحت کی کہ موسیٰ فرعون سے سختی سے بات نہ کرنا۔ ہو سکتا ہے سختی سے بات کرو تو وہ میری طرف پلٹنا ہی نہ چاہے
اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ بِاٰيٰتِىۡ وَلَا تَنِيَا فِىۡ ذِكۡرِىۚ●
تم (موسیٰ) اور تمہارا بھائی (ہارون) دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔
اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰىۖۚ●
سو دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے.
فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلاً لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوۡ يَخۡشٰى●
اور اس (فرعون) سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے.
(سورہ طہٰ، 42،43،44)
نفسانی خواہشات غلبہ پا لیتی انسان پر کیونکہ انسان کمزور ہے اس لئے توبہ کو کبھی نہ چھوڑیں۔ ہم سب گنہگار ہیں، ہم تقویٰ کی زندگی شاید نہیں گزار سکتے تو اللہ سے تقویٰ کا تعلق نہ سہی کم از کم معذرت کا تعلق تو ہو لیکن اللہ سے تعلق ضرور ہو۔ تقویٰ کا نہ سہی معذرت کا تعلق ہی رکھ لیں اللہ سے ہوسکتا ہے اللہ کو یہی ادا پسند آجائے اور اللہ معاف کر دے.
❤
???????? Banat e Fatima ????????