مولانا مجیب اللّہ صاحب گونڈوی استاذِ حدیث دار العلوم دیوبند کی سادگی اور تواضع

nidaeqasmi
52 Views
مولانا مجیب اللّہ صاحب استاذِ حدیث دار العلوم دیوبند کا تواضع دیکھیے۔ *انھیں کی شان کو زیبا نبوت کی وراثت ہے*۔۔۔!! 26 شعبان المعظّم 1444ھ بہ روز پیر صبح آٹھ بجے اپنے کچھ رفقاء واحباب کو نم آنکھوں، مغموم دل اور مادر علمی میں بیتے ہوئے سال رواں کی حسین یادوں کے ساتھ رخصت کرکے تھوڑی دیر بغرض استراحت لیٹ گیا، پھر دیوبند کی مشہور ومعروف "حافظ جی چاۓ ہوٹل" کا رخ کیا، جہاں چاۓ کے انتظار میں بیٹھے ماضی کے دریچوں سے اپنی کمی وکوتاہی پر بارگاہِ ایزدی میں سراپا نادم و شرمسار تھا وہیں بتوفیق الہی جو اچھے اور نیک اعمال کی توفیق مُیسّر ہوئی اس پر خدا کے حضور جبین تشکر خم کیے ہوئے تھا، چائے وائے سے فارغ ہوکر مسجد قدیم کے برابر والے راستے سے آہستہ آہستہ چل کے "باب قاسم" سے داخل ہو رہا تھا کہ اچانک سفید کپڑوں میں ملبوس ایک فرشتہ صفت بزرگ انسان پر نظر پڑی جو موچی کے پاس کھڑے اپنی چپل سلائی کروا رہے تھے۔ جیسے ہی قریب ہوا تو کیا دیکھتا أم المدارس دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز محدّث، استاذ محترم حضرت مولانا مجیب اللہ گونڈوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ جو اپنی سن رسیدگی اور کمزوری کے علی الرغم خود جاکے اپنے نعلین کو درست کروانے میں لگے ہوئے ہیں، سبحان اللہ کیا تواضع ہے ان اللہ والوں کا، میں حیرت و استعجاب کے دریا میں ڈوب سا گیا اور قابل رشک نگاہوں سے کافی دیر تک یہ منظر دیکھتا رہ گیا، دل ودماغ میں ارشاد نبوی ﷺ ”من تواضع لله رفعه الله “ کی حسین تصویر گردش کر رہی تھی، آدمی علم و عمل کے بلند وبالا مقام پر فائز ہو پھر چھوٹا موٹا کام اپنے خود ہی انجام دے یہ انتہائی درجے کی سادگی کی علامت ہے، میں نزدیک جاکر سلام عرض کرکے مصافحہ کیا اور خیر خیریت پوچھا اور کہا کہ: حضرت کوئی خدمت ہو تو بتلائیں؟ جواباً وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہہ کر شفقت بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا: بابو ! تمہارا نام کیا ہے اور کہاں سے ہو؟ میں نے تفصیلات سے آگاہ کیا، کہنے لگے: چھٹی میں گھر کیوں نہیں گئے؟ جواباً میں نے عرض کیا کہ : حضرت مادر علمی کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کرتا ہے اور چونکہ مجھے دسویں کا امتحان بھی دینا ہے اسی لیے ٹھرا ہوا ہوں اس پر حضرت مسکرا بیٹھے اور کچھ نصیحتیں کی پھر "احاطہ مولسری" کی طرف آہستہ روی سے تشریف لے گئے، الحمد للہ بندہ کو حضرت کے پاس مسلم شریف جلد اول پڑھنے کا شرف حاصل ہے، حضرت مولانا دارالعلوم دیوبند کے نہایت مؤقر و بافیض اساتذہ میں سے ہیں، فہم و فراست، سنجیدہ مزاجی اور اصابت رائے کے عنوان سے آپ دارالعلوم میں معروف ہیں، آپ کا درس "خير الكلام ما قلَّ ودلَّ" کا مکمل مصداق ہوتا ہے، انداز درس اور افہام و تفہیم میں انفرادی شان رکھتے ہیں طلباء کے درمیان بے حد مقبول ہیں۔ قدرت نے انھیں بے شمار خوبیوں اور عمدہ اوصاف وکمالات سے نوازا ہے، مشکل سے مشکل تر اور طویل سے طویل تر مضمون کو مختصر اور عام فہم زبان میں ڈھال کر ذہن نشین کردینا آپ کی خصوصیات میں سے ہے۔۔۔ آپ کی پیدائش 1952ء میں موضع جوڑھا پور، ضلع گونڈہ یوپی میں ہوئی، عربی کی تعلیم مدرسہ نورالعلوم بہرائچ میں حاصل کی، اس کے بعد 1967ء میں ایشیاء کی عظیم درس گاہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور 1973ء میں دورۂ حدیث شریف سے فراغت حاصل کی 1974ء میں تکمیل افتاء کیا، فراغت کے بعد اولاً مدرسہ اسلامیہ جودھپور راجستھان میں صدر مدرس مقرر ہوئے، پھر 1975ء میں مدرسہ فرقانیہ گونڈہ منتقل ہوگئے، یہاں پانچ سال تدریسی خدمت انجام دے کر 1979ء میں جامع العلوم پٹکا پور کانپور میں تدریس سے وابستہ ہوگئے، 1982ء میں دارالعلوم دیوبند میں تقرری ہوئی، 2008ء میں درجہ علیا میں ترقی ہوئی اور ناظم تعلیمات کے اہم منصب کی زینت بنے، جس پر آپ 1435ھ تک قائم رہے، اِس وقت آپ کا درجہ علیا کے اساتذہ میں شمار ہے، اور مسلم شریف، ہدایہ ثالث اور قواعد الفقہ کے اسباق آپ سے متعلق ہے، آپ کے گوہر بار قلم سے درس نظامی کی مشہور کتاب شرح عقائد کی مقبول ومعروف شرح "بیان الفوائد" منصۂ شہود پہ آکر کافی پذیرائی حاصل کر چکی ہیں، اسی طرح "بیان الحواشی شرح اصول الشاشی" "بچوں کی تربیت قرآن وحدیث کی روشنی میں" اساتذہ و طلبہ میں بے حد مقبول ہے، بیعت وسلوک میں آپ اولاً شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے، بعدہ محبوب العلماء والصلحاءحضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم سے وابستہ ہوئے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور تادیر آپ کا سایہ قائم و دائم رکھے! (آمین) ✒️خامہ فرسا: محمد کوثر عالم آسامی شریک دورۂ حدیث شریف دارالعلوم دیوبند

Latest Videos

Partner Program Latest Videos Terms of Service About Us Copyright Cookie Privacy Contact